واشنگٹن: 10 اکتوبر 2026 – ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکہ کو فضائی طاقت میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس کی 5 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ان طیاروں کی جگہ نئے طیارے خریدنے کی لاگت کا تخمینہ 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر تک لگایا گیا ہے۔ سی این این کے مطابق یہ نقصانات مجموعی جنگی اخراجات کا حصہ ہیں، جس سے امریکہ کا کل جنگی خرچہ کم از کم 45 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو ہونے والے نقصان کا حساب شامل نہیں۔سب سے زیادہ نقصان ایم کیو-9 ریپر (MQ-9 Reaper) ڈرونز کا ہوا ہے، جنہیں “آسمان کا قاتل” بھی کہا جاتا ہے۔ اگست تک کم از کم 45 ریپر ڈرونز تباہ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جو جنگ سے پہلے موجود 185 آپریشنل یونٹس کا تقریباً 24 فیصد بنتا ہے۔اٹلانٹک کونسل نامی امریکی تھنک ٹینک نے بھی گزشتہ ماہ رپورٹ کیا کہ اس سال مشرق وسطیٰ میں 45 ایم کیو-9 ریپرز کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے۔ یہ تعداد 2004 سے اب تک امریکی فضائیہ کے کل ایم کیو-9 بیڑے کا تقریباً 35 فیصد ہے۔ایم کیو-9 ریپر کا ونگ اسپین تقریباً 20 میٹر ہے، اسے امریکہ سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے۔ یہ ڈرون جنوری 2020 میں اس وقت مشہور ہوا جب اسی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی بغداد ایئرپورٹ کے قریب جاں بحق ہوئے تھے۔ ایک ایم کیو-9 ڈرون کی قیمت 3 سے 5 کروڑ ڈالر تک ہوتی ہے۔دیگر تباہ ہونے والے طیاروں میں ایف-35 اے، ایف-15 ای لڑاکا طیارے اور ای-3 سینٹری (AWACS) نگرانی کا طیارہ بھی شامل ہے، جسے “آسمان کی آنکھ” کہا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلی بار دشمن کی کارروائی میں ای-3 سینٹری کو نقصان پہنچا، جب مارچ میں سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئربیس پر ایرانی حملے میں اس کا پچھلا حصہ متاثر ہوا۔
