کراچی: اصل تعداد 48 فیصد ہے۔ ورلڈ بینک کی اکتوبر 2026 کی اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق پاکستان مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) خطے میں انتہائی غربت میں رہنے والی کل آبادی کا 48 فیصد رکھتا ہے۔یاد رہے: یکم جولائی 2025 کو ورلڈ بینک نے ادارہ جاتی طور پر پاکستان کو جنوبی ایشیا سے نکال کر ایک نئے گروپ MENAAP میں شامل کیا تھا۔ یہ معاشی تنزلی نہیں، صرف دفتری تقسیم ہے۔ورلڈ بینک یہ نہیں کہہ رہا کہ 48 فیصد پاکستانی انتہائی غریب ہیں۔ ورلڈ بینک کہہ رہا ہے کہ MENAAP خطے میں جتنے لوگ انتہائی غربت میں ہیں، ان میں سے 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔ ایک علاقائی حصہ ہے، دوسرا قومی شرح۔اصل حساب: MENAAP کی آبادی 81.3 کروڑ ہے، جس میں 25.1 کروڑ پاکستانی شامل ہیں۔ پاکستان خطے کی آبادی کا 31 فیصد ہے لیکن خطے کے انتہائی غریبوں کا 48 فیصد پاکستان میں ہے۔ یہیں پر بہت سے لوگوں نے غلطی کی۔معاشیات میں نسب نما (Denominator) اہم ہوتا ہے۔ پاکستان میں غربت 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہوئی ہے – یہ سچ چھپانا نہیں چاہیے، لیکن اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی معاشیات نہیں سیاست ہے۔ورلڈ بینک نے پاکستان کا علاقائی پتہ بدلا ہے، آمدنی کی درجہ بندی نہیں۔ پاکستان لوئر مڈل انکم معیشت تھا اور ہے۔نوٹ: پہلے MENA خطے کی آبادی 51.9 کروڑ تھی، پاکستان اور افغانستان کے شامل ہونے کے بعد MENAAP 81.3 کروڑ ہو گیا – 29.4 کروڑ کا اضافہ بغیر کسی پیدائش یا ہجرت کے، صرف باؤنڈری بدلنے سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *